اہل بیت (ع) نیوز ایجنسی ابنا کے مطابق، امریکا کے سابق صدر جو بائیڈن کے بیٹے ہنٹر بائیڈن، جو ان دنوں ڈونلڈ ٹرمپ کے نمایاں ناقدین میں شامل ہیں، نے اس بار صہیونی حکومت کے وزیر اعظم بنیامین نیتن یاہو کو شدید تنقید کا نشانہ بنایا اور انہیں ’’شیطان کا مجسمہ‘‘ قرار دیا۔
ہنٹر بائیڈن نے اسرائیل کے ناقد امریکی میڈیا شخصیت ٹکر کارلسن کو دیے گئے ایک انٹرویو میں کہا: ’’اگر یہ کہنا کہ بنیامین نیتن یاہو شیطان کا مجسمہ ہے، یہود دشمنی ہے تو پھر میں نہیں جانتا کہ لوگوں سے کیا کہوں۔ انہیں صرف اپنی آنکھیں کھولنے کی ضرورت ہے۔‘‘
انہوں نے کہا کہ ’’یہود دشمنی‘‘ جیسے الزامات کا مقصد نیتن یاہو پر ہونے والی تنقید کو دبانا ہے۔
ہنٹر بائیڈن نے اس انٹرویو میں ڈونلڈ ٹرمپ کو بھی شدید تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے کہا کہ موجودہ امریکی صدر نے جدید امریکی تاریخ پر بہت سے منفی اثرات مرتب کیے ہیں اور ان کے اقدامات مکمل طور پر امریکا کے نقصان میں رہے ہیں۔
وہ اس سے قبل بھی ٹرمپ کو نازیبا الفاظ سے مخاطب کرچکے ہیں اور کہا تھا کہ ٹرمپ مسائل حل کرنے کے بجائے ہر معاملے کا ذمہ دار جو بائیڈن کو قرار دیتے ہیں اور انہیں صرف دوسروں کو قصوروار ٹھہرانا آتا ہے۔
ہنٹر بائیڈن نے ٹرمپ کو امریکا میں سیاسی اختلافات مزید گہرا ہونے کا ذمہ دار قرار دیتے ہوئے کہا: ’’میرا ماننا ہے کہ ٹرمپ ہی اس بیماری کو امریکا میں مقامی وبا سے ایک ہمہ گیر وبا میں تبدیل کرنے کا بنیادی سبب ہیں۔‘‘
انہوں نے ریپبلکن رکن کانگریس تھامس میسی اور سابق رکن کانگریس مارجوری ٹیلر گرین کی بھی تعریف کی، جنہوں نے خارجہ پالیسی کے معاملات میں اپنی جماعت کی روایتی پالیسی سے اختلاف کیا ہے۔ ہنٹر بائیڈن نے کہا کہ انہیں خوشی ہے کہ کچھ قدامت پسند سیاست دان بیدار ہو رہے ہیں۔
آپ کا تبصرہ